رنگ روپ
معنی
١ - چمک دمک، آب و تاب، رونق اور بہار۔ "زمین کی پیداوار کہ انسانوں کی غذا اور حیوانوں کا چارہ ہے۔ شاداب ہو کر پھلی پھولی، پودے باہم دگر مل گئے تاآنکہ ان پر رنگ روپ آیا۔" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١٦٠:٣ ) ٢ - خال و خد، حلیہ، چہرہ مہرہ، صورت شکل۔ "اسے پیپلز پارٹی کا مخصوص جارحانہ رنگ دیا۔" ( ١٩٨٧ء، اورلائن کٹ گئی، ٢٩ )
اشتقاق
فارسی اسم 'رنگ' کے ساتھ سنسکرت سے ماخوذ اسم 'روپ' ملا کر مرکب بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٩٧ء میں "یوسف زلیخا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چمک دمک، آب و تاب، رونق اور بہار۔ "زمین کی پیداوار کہ انسانوں کی غذا اور حیوانوں کا چارہ ہے۔ شاداب ہو کر پھلی پھولی، پودے باہم دگر مل گئے تاآنکہ ان پر رنگ روپ آیا۔" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١٦٠:٣ ) ٢ - خال و خد، حلیہ، چہرہ مہرہ، صورت شکل۔ "اسے پیپلز پارٹی کا مخصوص جارحانہ رنگ دیا۔" ( ١٩٨٧ء، اورلائن کٹ گئی، ٢٩ )